بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سجدہ تلاوت نہیں کیا

سوال

اگر کوئی بندہ تلاوت قرآن کے دوران کسی وجہ سے سجدہ تلاوت نہ کر سکے اور بعد میں بھول گیا۔ ایسی صورت میں کیا حکم ہے ۔ اسے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سجدہ تلاوت یاد آجانے پر بعد میں سجدہ کرلے۔ نیز اگر آیتِ سجدہ پڑھتے وقت کسی وجہ سے سجدۂ تلاوت نہ کرسکے تو کم از کم یہ دعا پڑھ لے :

سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَك رَبَّنَا وَإِلَيْك الْمَصِيرُ

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 109):

(وهي على التراخي) على المختار ويكره تأخيرها تنزيها

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 109):

[فرع] في التتارخانية: يستحب للتالي أو السامع إذا لم يمكنه السجود أن يقول - سمعنا وأطعنا غفرانك ربنا وإليك المصير -.

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200935
تاریخ08-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں