بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا امام ، مسجد میں سو سکتا ہے؟

سوال

کیا امام ، مسجد میں سو سکتا ہے؟

جواب

مسجد میں بلا ضرورت سونا مکروہ ہے،  اگر کوئی شخص مسافر ہو اور اس  کےلیے کوئی اور جگہ  نہ ہویاکسی دینی مصروفیت کےلیےمسجد میں قیام پذیرہو اور وہ ضرورۃً مسجد میں سولے تو مضائقہ نہیں، یہی حکم مسجد کے امام کا ہے، یعنی امام ، دینی ضرورت یا رہائش نہ ہونے کی بنا پر آداب کی رعایت رکھتے ہوئے مسجد میں سو سکتا ہے،  اور  بلاضرورت سونا مکروہ ہے۔

ویحرم فیه السؤال، ویکرہ الإعطاء مطلقا، وقیل إن تخطی ....وأکل، ونوم إلا لمعتکف وغریب، وأکل نحو ثوم، ویمنع منه (الدرالمختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 2/433،  مطلب فی أفضل المساجد) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200930
تاریخ08-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں