بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈز میں ملنے والے انعام کا حکم

سوال

کسی معاملہ میں پیسوں کی جگہ پرائزبانڈ لیے ہیں ،اب اس بانڈ میں انعام نکلا ہے ،شریعت کے رو سے انعام لینا کیسا ہے؟

جواب

  پرائز بانڈز جوئے اور سود کا مجموعہ ہے ، لہذا پرائز بانڈ ز کی خریدوفروخت کرنااور اس سے ملنے والا انعام حاصل کرنا شریعت کی رو سے  ناجائز اور حرام ہے۔

لہذا آپ نے  کسی شخص سےجو بانڈز لیے ہیں، اب ان کی اصل رقم کا لینا اور استعمال کرنا تو جائز ہے ، اصل رقم سے زائد ملنے والا انعام حرام ہے ، اسے بغیر ثواب کی نیت کے فقراء پر صدقہ کردینا لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144111200912
تاریخ07-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں