بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چوری کی چھری سے جانور ذبح کیا

سوال

چھری چوری کی ہو تو ذبیحہ کا کھانا حلال ہے یا حرام؟

جواب

کسی کی چھری چوری کرنا  حرام ہے، اگر کسی نے چھری چوری کی تو اس پر توبہ کرنا لازم ہے، توبہ کی تکمیل کے لیے چھری اصل مالک کو لوٹانا ضروری ہے، تاہم اگر کسی نے چھری چوری کرکے اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کیا، تو ذبیحہ حلال شمار ہوگا؛ کیوں کہ ذبیحہ کی حلت و حرمت کا تعلق اللہ کے نام پر ذبح کرنے، نا کرنے سے ہے، چھری کی چوری کے عمل کی وجہ سے حرمت ذبیحہ میں سرایت نہ کرے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200863
تاریخ07-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں