بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کا چہرہ دیکھنا

سوال

کیا میت کا چہرہ دیکھنا جائز ہے؟

جواب

مرد میت کا چہرہ مردوں اور محارم کے لیے نیز عورت کا  عورتوں اور محارم کے لیے دیکھنا جائز ہے، لیکن اس بنا پر (یعنی کسی کو چہرہ دکھانے کے لیے) تدفین میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔ نیز نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد تدفین سے پہلے چہرہ دکھانے کے التزام اور اسے رسم بنالینے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح  (ص: 604):

وكذا يستحب الإسراع بتجهيزه كله" أي من حين موته فلو جهز الميت صبيحة يوم الجمعة يكره تأخير الصلاة عليه ليصلي عليه الجمع العظيم بعد صلاة الجمعة، ولو خافوا فوت الجمعة بسبب دفنه يؤخر الدفن اهـ.

 فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200855
تاریخ06-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں