بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حقِ مہر کیا ہونا چاہیے؟

سوال

حقِ  مہر  کیا ہونا چاہیے؟

جواب

مہر بیوی کا حق ہے، جو کہ اس عورت  کی قریبی ددھیالی ہم صفت لڑکیوں کے مہر کے برابر ہونا چاہیے۔ باقی اگر لڑکی  اور اس کے باپ وغیرہ کی اجازت سے کچھ کم رکھا جائے یا لڑکے کی اجازت سے زیادہ رکھا جائے تو  ایسا کرنا بھی جائز ہے۔ 

البتہ مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم ہے،  اور دس درہم میں دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی ہوتی ہے، اور یہ موجودہ گرام کے حساب سے تیس گرام چھ سو اٹھارہ ملی گرام چاندی ہوتی ہے۔

"عن جابر، أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم قال: لاصداق دون عشرة دراهم".

(سنن الدار قطني، النکاح۳/۱۷۳، رقم:۳۵۶۰)

"أقله عشرة دراهم؛ لحدیث البیهقي وغیره: لا مهر أقل من عشرة دراهم … ویجب الأكثر أي بالغاً ما بلغ منها إن سمیٰ الأکثر".

(الدر المختار مع الشامي، کتاب النکاح، باب المھر، ۳/۱۰۱- ۱۰۲)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200841
تاریخ06-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں