بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سمندر کے کھارے پانی سے وضو و غسل کرنے کا حکم

سوال

کیا  سمندر  کے  کھارے پانی  سے  وضو یا غسل ہوسکتا  ہے،  جیسے کہ  لوگ  کلفٹن  یا  ہاکس  بے کے  کھارےپانی سے نہاتے ہیں تو کیا اس پانی سے ان کا غسل یا وضو ہو جائے گا؟ اور اگر نہیں ہوتا تو کیا ان کو میٹھے یا صاف پانی سے غسل کر کے نماز ادا کرنی پڑے گی؟ 

جواب

میٹھے  پانی کی طرح کھارے پانی سے بھی وضو اور غسل  ہوجاتا ہے،  چنانچہ کھارے پانی سے نہانے کے بعد دوبارہ میٹھے پانی سے وضو یا غسل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 179):

"(يرفع الحدث) مطلقًا (بماء مطلق) هو ما يتبادر عند الإطلاق (كماء سماء وأودية وعيون وآبار وبحار وثلج مذاب)."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200812
تاریخ06-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں