بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی کی گائے میں عقیقہ کی نیت

سوال

کیا قربانی کے مقصد کے لیے لائی گئی گائے کے حصوں میں سے کسی حصے میں بچہ یا بچی کا عقیقہ کیا جاسکتا ہے یا اس کے لیے الگ سے جانور قربان کرنا لازمی ہے؟

جواب

قربانی کے لیے لائی گئی گائے کے  حصوں   میں عقیقہ کی نیت کی جاسکتی ہے (بچی کے لیے ایک حصہ میں اور بچہ کے لیے دو حصوں میں) اور الگ سے جانور قربان کرنا لازم نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (5/ 304،ط:دار الفکر:
"ولو أرادوا القربة -الأضحية أو غيرها من القرب- أجزأهم سواء كانت القربة واجبةً أو تطوعًا أو وجب على البعض دون البعض، وسواء اتفقت جهات القربة أو اختلفت بأن أراد بعضهم الأضحية وبعضهم جزاء الصيد وبعضهم هدي الإحصار وبعضهم كفارة عن شيء أصابه في إحرامه وبعضهم هدي التطوع وبعضهم دم المتعة أو القران، وهذا قول أصحابنا الثلاثة رحمهم الله تعالى، وكذلك إن أراد بعضهم العقيقة عن ولد ولد له من قبل، كذا ذكر محمد - رحمه الله تعالى - في نوادر الضحايا". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200805
تاریخ06-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں