بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دار الکفر میں کفار سے سود لینا

سوال

کفار کے بینک میں مثلاً انڈیا کے بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوا لیں اور وہ خود سے ہمارے اکاؤنٹ میں پیسے ڈال دیں تو ان پیسوں کا استعمال مباح ہے یا حرام ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے سودی معاملہ پر رضامندی کرنا اور اس پر دستخط کرنا حرام ہے۔ نیز اس اکاؤنٹ میں جو سودی رقم جمع ہو، اس کا استعمال بھی حرام ہے؛ کیوں کہ دار الکفر میں بھی سودی معاملات کرنا اور کفار سے سود وصول کرنا ناجائز ہے۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (11 / 200):

"إن آيات الربا التي في آخر سورة البقرة مبينة لأحكامه وذامة لآكليه، فإن قلت: ليس في الحديث شيء يدل على كاتب الربا وشاهده؟ قلت: لما كانا معاونين على الأكل صارا كأنهما قائلان أيضا: إنما البيع مثل الربا، أو كانا راضيين بفعله، والرضى بالحرام حرام".

فقط و الله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200800
تاریخ06-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں