بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچوں کا مسجد میں تعلیم حاصل کرنا

سوال

 نابالغ بچوں کا مسجد میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد کا احترام لازم ہے، لہٰذا مناسب تو یہ ہے کہ نابالغ  بچوں  کی تعلیم  کے لیے کسی دوسری جگہ انتظام کیا جانا چاہیے، اگر کوئی دوسری جگہ نہ ہو تو مجبوراً بچوں کو دینی تعلیم مسجد میں دینا درست ہے، مگر جو  بچے اتنے  چھوٹے ہوں  کہ پاکی / ناپاکی کی تمیز نہ رکھتے ہوں  یا شور شغب کرتے ہوں اور سمجھانے سے بھی نہ سمجھیں تو ایسی حالت میں ان کو  وہاں تعلیم دینے کی اجازت نہیں، بلکہ ایسے بچے جن کے بارے میں یہ اندیشہ ہو کہ وہ مسجد کو ناپاک کردیں گے، ان کو مسجد میں لانا ہی منع ہے۔ 

(مستفاد از فتاوی محمودیہ۔ ج۱۴، ص۶۰۶، ط: جامعہ فاروقیہ)

لیکن مطلقًا بچوں کو مساجد سے روکنا درست نہیں ہے، اس حوالے سے تفصیلی فتویٰ دیکھنے کے لیے درج ذیل لنک  ملاحظہ کیجیے:

مساجد میں بچوں کو لانے کا حکم اور ان کو روکنے سے ممانعت کے ترغیبی پوسٹرز

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200761
تاریخ05-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں