بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرف لا کے اضافہ اور صیغہ بدلنے سے نماز کا حکم

سوال

میں نے ایک نماز میں"یا ایها الذین اٰمنوا اجتنبوا كثیرا من الظن" کی بجائے"لا تجتنبوا کثیرا من الظن" پڑھ دیا تھا اور نماز میں اسے دوبارہ درست کرکے پڑھا بھی نہیں، توکیا اس غلطی سے میری نماز ہوگئی؟ یا وہ نماز واجب الاعادہ ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں لفظ  "لا"  کے  اضافہ  اور لفظ بدلنے کی وجہ سے  آیت کا مکمل معنی ہی بدل گیا؛ لہذا نماز فاسد ہوگئی اور  اس کا اعادہ واجب ہے۔

الفتاوى الهندية:

"(ومنها) زيادة كلمة لا على وجه البدل الكلمة الزائدة إن غيرت المعنى ووجدت في القرآن نحو أن يقرأ والذين آمنوا وكفروا بالله ورسله أولئك هم الصديقون، أو لم يوجد نحو أن يقرأ {إنما نملي لهم ليزدادوا إثما} [آل عمران: 178] وإجمالا تفسد صلاته بلا خلاف."

(کتاب الصلاۃ باب صفۃ الصلاۃ فصل زلۃ القاری ج نمبر ۱ ص نمبر ۸۰،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200751
تاریخ05-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں