بیوہ، والدہ، دوبیٹیوں اوردوبھائیوں میں جائیداد کی تقسیم
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص فوت ہوا، اس کے پس ماندگان میں اس کی بیوی، دو بیٹیاں اور والدہ حیات ہیں، اس کا مال کس حساب سے تقسیم ہوگا؟ اس کی وراثت کی کل مالیت 1087500ہے۔ اور اس شخص کے انتقال کے وقت 2 سگے بھائی بھی موجود تھے۔ جن میں سے ایک کا اب انتقال ہو چکا ہے اور ایک بھائی ابھی زندہ ہے۔ کیا ان کو بھی حصہ ملے گا ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کی جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے ترکہ میں سےان کی تجہیز وتکفین کے اخراجات اور قرضہ جات کی ادائیگی کے بعد اگرمرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کوایک تہائی مال میں سے نافذ کیا جائے، اس کے بعد مرحوم کے باقی کل ترکہ منقولہ و غیرمنقولہ کو 48حصوں میں تقسیم کرکے 6حصے بیوہ کو ، 8حصے والدہ کو، 16،16 حصے ہر ایک بیٹی کو اور ایک ،ایک حصہ ہرایک بھائی کو ملے گا۔
یعنی1087500روپے میں سے 135,937.5روپے بیوہ کو،181,250روپےوالدہ کو ،362,500 روپے ہرایک بیٹی کو اور 22,656.25 روپے ہرایک بھائی کو ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

