بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اس شرط پر باہر بھیجنا کہ نفع میں دونوں شریک ہوں گے

سوال

باہر ملک بھیجنااس شرط پر کہ کمائی میں نصف کاشریک ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ ایک شخص کا دوسرے شخص کے ساتھ نفع اور کمائی میں شریک ہونے کے لیے تین چیزوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے:

1- عمل میں شرکت۔

2- جس کاروبار سے نفع حاصل ہو رہا ہے اس کے سرمایہ میں شرکت ۔

3- جس کاروبار سے نفع حاصل ہو رہا ہے اس کے ضمان میں شرکت۔

صورتِ مسئولہ میں پہلا  شخص باہر بھیجنے کے لیے اخراجات اٹھاتا ہے اور دوسرا شخص باہر ملک جا کر نوکری یا مزدوری کر کے مال کماتا ہے، مذکورہ صورت میں چوں کہ پہلا شخص نہ تو عمل میں دوسرے کے ساتھ شریک ہے اور نہ کمائی کے ذریعہ میں کسی قسم کے سرمائے یا ضمان میں شریک ہے؛ لہذا شرعًا دوسرے شخص کی کمائی میں پہلا شخص شریک نہیں ہے اور مکمل نفع کا مستحق دوسرا شخص ہے، البتہ جو اخراجات باہر بھیجنے  کے لیے برداشت کیے ہیں پہلا شخص دوسرے شخص سے اس کی وصولی کا حق دار ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے: 

"والأصل أن الربح إنما يستحق عندنا إما بالمال وإما بالعمل وإما بالضمان."

(کتاب الشرکة ج نمبر ۶ ص نمبر ۶۲،دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200740
تاریخ05-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں