بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک سے زیادہ طواف کرکے پھر نفل پڑھنا

سوال

 ایک طواف کے بعد دو رکعت واجب الطواف پڑھنا ضروری ہے یا کہ دوتین طواف کرکے اکٹھے نفل پڑھ لیں کوئی حرج تو نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ہر طواف کے بعد اس کے بعد کی دو رکعت اس کے ساتھ ہی پڑھ لینا مسنون ہے، بغیر عذر کے جیسا کہ مکروہ وقت وغیرہ نہ ہونے کے باوجود طواف کی دو رکعات ادا کرنے سے پہلے، دوسرا طواف شروع کرنا اور بعد میں کئی طواف کے نوافل ایک ساتھ ادا کرنا مکروہ ہے۔

ارشاد الساری میں ہے:

"ویكره تاخیرها عن الطواف، لأن الموالاة بینه وبینهما سنة إلا في وقت مكروہ، فلذا قال: كما قیل، ولو طاف بعد العصر یصلي المغرب ثم رکعتي الطواف." (222,223)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200731
تاریخ05-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں