بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ کی امامت

سوال

نا با لغ بچے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ اگر 8 سے 12 سال کے نا بالغ بچے حفظ کر رہے ہیں تو ترغیب کے لیے نماز ان کے پیچھے ہوسکتي ہے؟ چاروں امام کی کیا رائے ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نابالغ کی اقتدا میں بالغ شخص کی نماز درست نہیں ہے؛ کیوں کہ نابالغ کی نماز نفل کے حکم میں ہے، اور بالغ کی نماز فرض ہوگی، لہذا یہ اقتدا چاہے ترغیب کی نیت سے ہی کیوں نہ ہو درست نہیں ہے۔ البتہ اگر نفل نماز میں کسی نابالغ کو امام بنا دیا  جائے یا فرض میں اس نا بالغ کی اقتدا میں نابالغ بچوں کو ہی نماز پڑھوائی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"ولا تجوز إمامة الصبي في صلاۃ الفرض." (251/2)

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما شروط الإمامة فقد عدها في نور الإيضاح على حدة، فقال: وشروط الإمامة للرجال الأصحاء ستة أشياء: الإسلام والبلوغ والعقل والذكورة والقراءة والسلامة من الأعذار كالرعاف والفأفأة والتمتمة واللثغ وفقد شرط كطهارة وستر عورة." (550/1۔ ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200724
تاریخ05-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں