بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کے پیچھے تکبیرات کہنا

سوال

با جماعت نماز میں امام کے پیچھے تکبیر کا جواب دینا چاہیے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نماز  کی تکبیرات میں سے صرف تکبیر تحریمہ فرض ہے،  دیگر تکبیراتِ  انتقالات  فرض نہیں،  بلکہ  سنت ہیں۔اس لیے تکبیر تحریمہ تو لازماً  کہنا چاہیے، اگر کسی نے زبان سے تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز شروع نہیں کی تو نماز شروع ہی نہیں ہوگی، اور دیگر تکبیرات  کہنا مقتدی کے لیے بھی سنت ہے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 373)
" قوله: فرضها التحريمة " أي ما لا بد منه فيها فإن الفرض شرعًا ما لزم فعله بدليل قطعي أعم من أن يكون شرطًا أو ركنًا والتحريم جعل الشيء محرمًا وخصت التكبيرة الأولى بها؛ لأنها تحرم الأشياء المباحة قبل الشروع بخلاف سائر التكبيرات والدليل على فرضيتها قوله تعالى: {وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ}[المدثر:3] جاء في التفسير أن المراد به تكبيرة الافتتاح ولأن الأمر للإيجاب وما وراءها ليس بفرض فتعين أن تكون مرادة لئلايؤدي إلى تعطيل النص، وما رواه أبو داود وغيره عن علي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "مفتاح الصلاة الطهور وتحريمها التكبير وتحليلها التسليم".
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200714
تاریخ04-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں