بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ صاحب نصاب بچے پر قربانی کا حکم

سوال

نابالغ بچہ پر جب کہ وہ صاحب نصاب ہو قربانی واجب ہے یا نہیں?

جواب

 قربانی واجب ہونے کی دیگر شرائط میں سے ایک شرط بالغ ہونا ہے، پس اگر کوئی بچہ مال دار ہو تو اس صورت میں بھی اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کے والد پر اپنے نابالغ بچہ کی طرف سے قربانی کرنا لازم ہوگا۔ البتہ اگر کوئی والد اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے اپنےمال سے قربانی کرنا چاہے تو نفلی طور پر کرسکتا ہے۔ 

بدائع الصنائع میں ہے

و من المتاخرین من قال لا خلاف بینهم فی الاضحیة انها لاتجب فی مالهما ۔۔۔۔۔۔۔۔الا ان صدقة الفطر خصت عن النصوص فبقیت الاضحیة علی عمومها ،(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع،ج:5،ص:64،ط:ایچ ایم سعید)

ہدایہ میں ہے

ولیس علی الصبی والمجنون زکاة خلافا للشافعی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولنا انها عبادة فلاتتادی الا بالاختیار تحقیقا لمعنی الابتلاء ولا اختیار لهما لعدم العقل،(ج:1،ص:186،ط:مکتبہ رحمانیه)

فتاوی قاضی خان میں ہے

وفی الولد الصغیر عن ابی حنیفة روایتان ،فی ظاهر الروایة  یستحب ولایجب،(فتاوی قاضی خان علی هامش الهندية،ج:3،ص:345،ط:مکتبه ماجدیه)فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200704
تاریخ04-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں