بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹا اور بیٹی کا حصہ

سوال

وراثت میں بیٹا اور بیٹی کا کیا حصہ ہے؟ براہ کرم نصاب بتا دیں!

جواب

وراثت میں بیٹے کا حصہ بیٹی کی بہ نسبت دوگنا ہوتا ہے یعنی جتنا حصہ بیٹی کو ملے گا اس کا دوگنا بیٹے کو ملے گا۔ مثلاً اگر ورثہ میں صرف دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہوں، تو کل ترکے کو سات برابر حصوں میں تقسیم کرکے ایک ایک حصہ بیٹی کو اور دو دو حصے ہر ایک بیٹے کو دیں گے۔ 

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11] فقط والله أعلم  

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200686
تاریخ04-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں