بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمیشن پر چندہ کرنا

سوال

مدرسہ کا مہتمم اگر کسی سے مدرسہ کے لیے چندہ مانگے تو کیا اس چندہ سے وہ اپنے لیے بطور کمیشن کچھ روپیہ لے سکتا ہے؟ اگر لے سکتا ہے  تو کتنے فیصد لے سکتا ہے؟

جواب

مہتمم مدرسہ کے لیے چندہ میں سے کمیشن لینا جائز نہیں، چندہ کی تمام رقم ادارہ میں جمع کرانا ضروری ہے۔ ( زکوة کےمسائل کاانسائیکلو  پیڈیا از مفتی محمد انعام الحق قاسمی صاحب، بعنوان: کمیشن پر زکوة کا چندہ وصول کرنا، ص: ٣٦٨ - ٣٦٩)

البتہ درج ذیل صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں:

1- باقاعدہ ضابطے کے تحت (مثلاً: مجلسِ مشاورت وغیرہ کے مشورے سے) چندے والے ایام کی تنخواہ دوگنی طے کردی جائے، اور تنخواہ کے مصرف سے ہی تنخواہ ادا کی جائے۔

2- ادارہ یہ طے کردے کہ اتنا چندہ لےکرآئے تو اتنا انعام الگ سے دیاجائے گا، مثلاً ایک ہزار روپے لائے تو پچاس روپے بطورانعام کے دیے جائیں گے، لیکن جو چندہ سفیرکرے اس میں سے اجرت طے کرنا غلط ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200671
تاریخ03-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں