بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایصالِ ثواب کرنے والے کو بھی اجر ملتا ہے

سوال

اگر ہم قرآن پڑھ کر کسی کو ایصالِ ثواب کرتے ہیں تو قرآن کا پورا ثواب ان کو مل جاتا ہے یا ہمارے نامہ اعمال میں اس کا ثواب باقی رہتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جو شخص کوئی نیک عمل کر کے دیگر مسلمانوں کو ایصالِ ثواب کی نیت کرتا ہے تو اس کا ثواب دیگر مسلمانوں کو تو پہنچتا ہی ہے، لیکن اس عمل کرنے والے کے نامہ اعمال میں بھی اس کا ثواب لکھا جاتا ہے، وہ عمل کرنے والا اس اجر سے محروم نہیں رہتا۔

فتاوی شامی میں ہے:

صرح علماؤنا في باب الحج عن الغیر بأنّ للإنسان أن یجعل ثواب عمله لغیره صلاةً أو صومًا أو صدقةً أو غیرها، كذا في الهدایة. بل في زكاة التتارخانیة عن المحیط: الأفضل لمن یتصدّق نفلًا أن ینوي لجمیع المؤمنین و المؤمنات؛ لأنّها تصل إلیهم، ولاینقص من أجره شيءٍ اهـ  هو مذهب أهل السنة والجماعة.

(243/2۔ ط:سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200632
تاریخ03-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں