بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی شدہ عورت کا دوسرے مرد کو قبول کرنے سے سابقہ نکاح کا حکم

سوال

اگر کوئی شادی شدہ عورت کسی دوسرے مرد سے تعلق بنا کے یہ کہے کہ "مجھے آپ قبول ہیں، قبول ہیں، قبول ہیں" تو ایسی صورت میں پہلے سے کیا ہوا نکاح رہے گا یا نہیں؟

جواب

ایک مرد کے نکاح میں ہوتے ہوئے دوسرے مرد کے ساتھ تعلق رکھنا  انتہائی قبیح حرکت اور سخت گناہ ہے، مذکورہ خاتون کو اس پر توبہ کرنا لازم ہے، باقی دوسرے مرد کو یہ کہنے سے کہ  "مجھے آپ قبول ہیں، قبول ہیں، قبول ہیں" اس سے  نہ اس دوسرے مردسے نکاح منعقدہوا نہ پہلا نکاح ختم ہوا، پہلا نکاح بدستور برقرار ہے، دوسرے شخص سے پردہ اور فوری طور پر تعلق ختم کرنا لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144111200599
تاریخ02-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں