بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرائے میں اضافے کا حکم

سوال

 ہم جو مکان یا دکان کراۓ پر دیتے ہیں اور کرایہ فکس ہوتا ہے اور ہر ایگریمینٹ کے ختم ہونے پر اس میں بڑھوتری بھی ہوتی ہے تو کیا یہ سود میں آتا ہے؟ 

جواب

کرایہ داری کے معاملے میں ضروری ہے کہ کرایہ متعین ہو اور مدت معلوم ہو، مدت پوری ہونے کے بعد نئے سرے سے معاہدہ کیا جائے گا تو نیا کرایہ اضافے کے ساتھ طے کیا جاسکتاہے، یہ سود نہیں ہے۔

درر الحکام شرح مجلۃ الأحکام میں ہے(495/1:(

" شرط الصحة أنواع: النوع الأول: رضاء العاقدین ۔ النوع الثاني : تعیین المأجور ۔ النوع الثالث: تعیین الأجرة ۔ النوع الرابع: تعیین المنفعة۔ النوع الخامس: أن یمکن استیفاء المنفعة۔ النوع السادس: وجود شرط الانعقاد".

  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200598
تاریخ02-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں