بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر، 5 بیٹوں اور 3 بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم کا طریقہ

سوال

ایک عورت کے ترکہ کو شوہر،  5 بیٹوں اور 3 بیٹیوں میں کیسے تقسیم کریں گے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ  کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر  مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد باقی کل ترکہ کو   52 حصوں میں تقسیم کرکے 13 حصے مرحومہ کے شوہر کو، چھ چھ حصے ہر ایک بیٹے کو اور تین تین حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

یعنی فی صد کے اعتبار سے  25 فی صد شوہر کو،11.54 فی صد ہر ایک بیٹے کو اور 5.77 فی صد ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200585
تاریخ02-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں