بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناواقفین کا تجدید نکاح

سوال

کیا نا واقف لوگ ہر مہینے میں ایک یا دو بار احتیاطاً تجدیدِ نکاح کرنے سے یا کفریہ کلام کہنے کے بعد تجدیدِ نکاح کرنے سے نکاح میں کوئی نقص ہوتا ہے یا نہیں؟  یا کہ اس صورت میں تجدیدِ نکاح کرنے میں کوئی فضیلت ہے؟

جواب

فقہاء نے لکھا ہے کہ  ناواقف لوگوں کو چاہیے کہ وہ مہینہ میں ایک یا دو مرتبہ نکاح کی تجدید کرلیا کریں  کہ غلطی  میں ان سے کوئی کفریہ کلمہ سرزد نہ ہوگیا ہو۔ صرف احتیاط کی بنا پر  نکاح کی تجدید کی گئی ہو تو نیا  مہر متعین کرنا ضروری نہیں ہے، اور  اس نفسِ نکاح سے (جب کہ مہر میں اضافہ مقصود نہ ہو) مہر بھی لازم نہیں  ہوگا۔

باقی تجدید نکاح کرنے سے نکاح میں کوئی نقص نہیں آتا، نیز اس کی کوئی خاص فضیلت نہیں، یہ حکم احتیاط پر مبنی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 42):

" والاحتياط أن يجدد الجاهل إيمانه كل يوم ويجدد نكاح امرأته عند شاهدين في كل شهر مرةً أو مرتين؛ إذ الخطأ وإن لم يصدر من الرجل فهو من النساء كثير".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200582
تاریخ02-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں