کیا مرے ہوئے لوگ قبروں میں دعا مانگ سکتے ہیں؟
سوال
کیا مرے ہوئے لوگ قبر میں دعا کرتے ہیں؟
جواب
بصورتِ مسئولہ نیک اَموات (یعنی مرے ہوئے لوگ) اپنے زندہ رشتہ داروں کے لیے ہدایت کی دعا کرتے ہیں، جیسے کہ حدیث شریف میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: بے شک تمہارے مرے ہوئے رشتہ داروں پر آپ لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، پس اگروہ اعمال اچھےہیں تو وہ (مرے ہوئے لوگ) خوش ہوجاتے ہیں، اور اگر وہ اس کے علاوہ ہوں (یعنی زندوں کے اعمال اچھے نہ ہوں) تو وہ (یعنی مرے ہوئے لوگ) دعا کرتے ہیں: "اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُمْ حَتَّى تَهْدِيَهُمْ كَمَا هَدَيْتَنَا" (اے اللہ آپ ان کو موت نہ دیں، یہاں تک کہ آپ ان کو ہدایت دیں جیسےکہ ہمیں ہدایت دی ہے۔)
مسند أحمد میں ہے:
"حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِكُمْ وَعَشَائِرِكُمْ مِنْ الْأَمْوَاتِ فَإِنْ كَانَ خَيْرًا اسْتَبْشَرُوا بِهِ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ قَالُوا" اللَّهُمَّ لَاتُمِتْهُمْ حَتَّى تَهْدِيَهُمْ كَمَا هَدَيْتَنَا."
(مسند أنس بن مالك رضى الله عنه، رقم الحديث:12683، ج:20، ص:114، ط:مؤسسة الرسالة)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

