بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پانی کے اندر مرنے والی مچھلی کا حکم

سوال

کیا پانی کے اندر مرنے والی مچھلی حلال ہے یا حرام؟

جواب

ایسی مچھلی جو کسی خارجی سبب ( مثلاً   گرمی یا ٹھنڈک وغیرہ) کی وجہ سے  پانی میں مرجائے وہ  حلال ہے، کھاسکتے ہیں، البتہ جو مچھلی پانی میں طبعی موت مر کر الٹی تیرنے لگے، اس کا کھانا منع ہے۔ 
"عن جابر بن عبدالله قال رسول الله ﷺ: ما ألقی البحر أو جزر عنه فکلوه، وما مات فیه فطفأ فلاتأکلوه". (ابن ماجه:۲۳۷)
و لما في ’’الشامیة‘‘ (۵/۲۶۸):
"الاصل في إباحة السمك إن ما مات بآفة یؤکل وما مات بغیر آفة لایؤکل".
وفیه ’’ایضا‘‘ (۵/۲۱۶):
"ولایحل حیوان مائي إلا السمك، وغیر الطافي علی وجه الماء الذي مات حتف أنفه و هو ما بطنه من فوق..." الخ فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144111200502
تاریخ30-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں