بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ملازمت کے دوران ذاتی کام کرنا

سوال

میں  نے   ایک آفس میں  8 مہینے  کمپیوٹر آپریٹر کی جاب  کی 2003ء میں ،  آفس ٹائم کے اندر اپنا کام بھی کیا ہے،  اب میں بہت شرمندہ ہوں،  کیا میں کچھ  رقم اس کمپنی کو  واپس کر دوں؟

جواب

دفتری  اوقات  ملازم  کے پاس امانت ہوتے ہیں اور ان اوقات کی  پابندی  کے  ساتھ   ساتھ  اس دوران  ملازم کو اپنا کوئی ذاتی کام کرنے  کی شرعاً اجازت نہیں ہے، لہٰذا  دفتری اوقات میں اپنے  ذاتی  کام کرکے سائل خیانت کا مرتکب ہواہے،    جتنا وقت سائل نے دفتر میں رہتے ہوئے اپنے ذاتی کام میں خرچ  کیا ہے،  اس کے بقدر تںخواہ سائل کے لیے حلال نہیں ہے،  جو  مذکورہ ادارے کو واپس کرنا ضروری ہے، اسی صورت میں سائل بری الذمہ ہوسکتا ہے۔

الدر المختار (6 / 70):

وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل.

وفي حاشية ابن عابدين (رد المحتار) تحته:

"(قوله: ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200490
تاریخ30-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں