بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ویڈیو کال کا حکم

سوال

ویڈیو کال جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

واضح رہے کہ ویڈیو کال  تصویر ہی کے حکم میں ہے، کیوں کہ اس میں انتہائی سرعت کے ساتھ  بہت ساری تصویروں کو  محفوظ کر کے آگے بھیجنے کا عمل مستقل جاری رہتا ہے، جس کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ سامنے والا براہِ  راست نظر آرہا ہے، جب کہ اس کی اصل بھی ریکارڈ شدہ ویڈیو اور تصویر کی ہی ہے، اور جاندار کی  تصویر اور ویڈیو شرعاً حرام اور ناجائز ہے؛  اس لیے ویڈیو کال جس میں جاندار کی تصویر ہو، وہ بھی شرعاً ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200489
تاریخ30-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں