ابان اور شقران نام رکھنا
سوال
" شقران" اور "ابان" ناموں کے معنی بتادیں، نیز یہ بھی بتا دیں کہ یہ لڑکوں کے نام رکھے جا سکتے ہیں؟
جواب
"ابان" نام رکھنا درست ہے، اس کا معنی صاف اور واضح چیز کے ہیں ، کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا نام تھا۔
"شقران" کا معنی کھیتی یا درخت کو لگنے والے بیماری۔"شقران " رسول اللہ ﷺ کے غلام کا نام ہے اور یہ حضور ﷺ کے ساتھ بدر میں بھی شریک ہوئے تھے،اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جن کا نام رسول اللہ ﷺ نے تبدیل نہیں کیا ان ناموں میں معنی کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف صحابہ کی نسبت کافی ہوتی ہے، لہذا "شقران" نام رکھنا درست ہے۔
البداية والنهاية میں ہے:
"قال: فجئ بالاسرى وعليهم شقران مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان قد شهد معهم بدرًا وهم تسعة وأربعون رجلًا الذين أحصوا."
( ج نمبر ۳ ص نمبر ۳۷۱،دار احیاءالتراث)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

