بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت میں داماد سے ملاقات

سوال

عدت کے دوران عورت اپنے داماد سے مل سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عدت کے دوران عدت گزارنے والی عورت کو اپنےمحرم رشتہ داروں سے ملاقات کی اجازت ہوتی ہے، عدت گزارنے والی عورت کے لیے صرف بناؤ سنگھار اور گھر سے نکلنے کی ممانعت ہوتی ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں   عدت کے دوران مذکورہ عورت کو داماد سے ملاقات کی اجازت ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 530):

(تحد) بضم الحاء وكسرها كما مر (مكلفة مسلمة - ولو أمة - منكوحة) بنكاح صحيح ودخل بها، بدليل قوله.(إذا كانت معتدة بت، أو موت) وإن أمرها المطلق، أو الميت بتركه لأنه حق الشرع، إظهارا للتأسف على فوات النكاح (بترك الزينة) بحلي أو حرير، أو امتشاط بضيق الأسنان (والطيب) وإن لم يكن لها كسب إلا فيه (والدهن) ولو بلا طيب كزيت خالص (والكحل والحناء ولبس المعصفر والمزعفر) ومصبوغ بمغرة، أو ورس.....(ولا تخرج معتدة رجعي وبائن) بأي فرقة كانت على ما في الظهيرية ولو مختلعة على نفقة عدتها في الأصح اختيار، أو على السكنى فيلزمها أن تكتري بيت الزوج معراج (لو حرة) أو أمة مبوأة ولو من فاسد (مكلفة من بيتها أصلا)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200479
تاریخ30-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں