بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مکان یا دکان کرائے پر دینا

سوال

شرعی طور پر مکان یا دکان کرائے پر دینا جائز ہے نہیں؟

جواب

شرعی طور پر مکان یا دکان کرائے پر دینا جائز ہے، البتہ شرائط کا لحاظ کرنا ضروری ہے:

  • اجرت/ کرایہ متعین ہو، مثلاً 10000ماہانہ۔
  • جگہ حوالہ کی جاسکے۔
  • جگہ مکمل طور حوالہ کی جائے، پھر کرایہ لیا جائے۔
  • اس کرایہ کے ساتھ کوئی غیر متعلقہ شرط نہ لگائی جائے جیسا کہ  تین سال کرایہ کے بعد تم یہ مکان خرید لوگے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 4):

(وكل ما صلح ثمنًا) أي بدلا في البيع (صلح أجرةً) لأنها ثمن المنفعة ولاينعكس كليًا، فلايقال: ما لايجوز ثمنًا لايجوز أجرةً؛ لجواز إجارة المنفعة بالمنفعة إذا اختلفا كما سيجيء.

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200436
تاریخ29-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں