بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقروض کا قرضہ کی ادائیگی کے لیے قرض خواہ کی ملازمت کرنا

سوال

میں زید کا ایک لاکھ کی رقم کا مقروض ہوں،  میرے پاس قرض کی ادائیگی کی کوئی صورت نہیں، کیا یہ جائز ہے کہ باہمی رضامندی سے ماہانہ تنخواہ طے ہوجائے اور اسی حساب سے قرض کی رقم پوری ہونے تک میں اس کی ملازمت کروں؟ یعنی قرض کی ادائیگی سروس کی صورت میں جائز ہے؟

جواب

اگر  سائل اور قرض خواہ  باہمی رضامندی سے مذکورہ طریقے پر قرض کی ادائیگی  کرنے پر راضی ہیں تو یہ درست ہے، بشرطیکہ سائل کی ملازمت کی  تنخواہ اتنی مقرر کی جائے جو  عام طور پر اس طرح کی ملازمت کی دی جاتی ہو، اس سے کم مقرر نہ ہو، اگر سائل کی    تنخواہ عام تنخواہ سے کم ہوئی تو یہ صورت جائز نہیں ہوگی اور یہ سروس (خدمت ) کے ذریعہ قرض کی ادائیگی نہیں ہے، بلکہ ہر ماہ سائل کی تنخواہ کی رقم سے قرض کی ادائیگی ہوگی۔

وفي حاشية ابن عابدين:

"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاًحرام".

  (5/166، مطلب كل قرض جرّ نفعًا، ط: سعید)

وفي درر الحكام في شرح مجلة الأحكام :

إذا استأجر الدائن من المدين مالا مقابل الدين الذي في ذمة المدين أو استأجر واستخدم نفس المدين جاز ويكون قد أدى الدين. (3/ 87ط:دار الجيل)

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144111200336
تاریخ27-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں