بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیویوں کو ایک ساتھ اکھٹے کرکے ہم بستری کرنا

سوال

کیا دو بیویوں کے ساتھ ایک وقت میں جماع کرنا جائز ہے جب دونوں اکٹھی ہوں؟

جواب

شرم و حیاء اسلام کا بنیادی اور امتیازی وصف ہے، ایمان و حیاء کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا، اگر ایک اٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے، لہذا دو بیویوں کے ساتھ ایک وقت میں اکھٹے کرکے ہم بستری کرنا حیا کے خلاف اور مکروہ تحریمی ہے۔

نیز عورت کے لیے بھی دوسری عورت کا ستر  شدید ضرورت کے بغیر دیکھنا جائز نہیں ہے،  لہٰذا اگر ایک بیوی دوسری بیوی کا ستر دیکھے تو اس کی قباحت مزید بڑھ جائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (3 / 208):
"ويكره للرجل أن يطأ امرأته وعندها صبي يعقل أو أعمى أو ضرتها أو أمتها أو أمته. اهـ". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200293
تاریخ27-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں