بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے بعد چند ماہ تک بیوی سے ہم بستری نہ کرنے سے نکاح کا حکم

سوال

 اگر کوئی انسان اپنی بیوی سے نکاح کے بعد چند ماہ ہم بستری نہ کرے تو کیا نکاح فاسد ہو جائے گا؟

جواب

فقط ہم بستری نہ کرنے سے نکاح نہ تو فاسد ہوتا ہے اور نہ ہی ٹوٹتا ہے چاہے جتنی بھی مدت گزر جائے۔ البتہ اگر کوئی چار ماہ یا اس سے زیادہ مدت تک اپنی بیوی سے ہم بستری نہ کرنے کی قسم کھالے تو اس قسم کھانے کے بعد اگر وہ چار ماہ تک اپنی اس بیوی سے ہم بستری نہ کرے تو چار ماہ پورے ہوتے ہی اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 422):

"باب الإيلاء
مناسبته البينونة مآلا (هو) لغةً: اليمين. وشرعًا (الحلف على ترك قربانها) مدته ... (وحكمه وقوع طلقة بائنة إن بر) ولم يطأ (و) لزم (الكفارة، أو الجزاء) المعلق (إن حنث) بالقربان.(و) المدة (أقلها للحرة أربعة أشهر، وللأمة شهران) ولا حد لأكثرها."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200229
تاریخ26-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں