بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے بچوں کی ڈاکٹر بننے کا حکم

سوال

 میں ایک خاتون ڈاکٹر ہوں اور بچوں کی فیلڈ  (paediatrics) میں سپیشلایزیشن کرنا چاہتی ہوں۔ کیا میں یہ فیلڈ چن سکتی ہوں اور اس میں نوکری کر سکتی ہوں؟

جواب

بچوں کی ڈاکٹر بننا آپ کے  لیے  جائز ہے بشرطیکہ اس  کی تعلیم کے حصول کے دوران اور بعد میں  آپ تمام شرعی احکامات  کی پاس داری  کریں اور کسی خلافِ شرع اَمر (مثلًا بے پردگی، مرد و عورت کا ناجائز اختلاط وغیرہ) کا ارتکاب نہ کریں۔

الفتاوی الہندیۃ میں ہے:

"امرأة أصابتها قرحة في موضع لایحل للرجل أن ینظر إلیه، لایحل أن ینظر إلیهما، لکن تعلم امرأة تداویها، فإن لم یجدوا امرأة تداویها ولا امرأة تتعلم ذلك إذا علمت، وخیف علیها البلاء والوجع أو الهلاك، فإنه یستر منها کل شيء إلا موضع تلك القرحة، ثم یداویها الرجل ویغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع، ولا فرق في هذا بین ذوات المحارم وغیرهنّ، لأن النظر إلی العورة لایحل بسبب المحرمیة".

(کتاب الکراهية، الباب الثامن فیما یحل للرجل النظر الخ، 5/ 330، ط:رشيدية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200228
تاریخ26-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں