بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قسمت اللہ نام رکھنا

سوال

قسمت اللہ نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

"قِسمت اللہ"  کے معنی ہیں: اللہ کی تقسیم، عربی زبان میں لفظ "قسمة" کے مختلف تلفظ ہوسکتے ہیں، "قِسْمَة" تلفظ ہو تو اس کا ایک معنٰی وہی ہے جو ذکر کیا گیا، اس اعتبار سے یہ نام رکھ سکتے ہیں۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ ایسے نام نہ رکھے جائیں جن میں کسی بھی وجہ سے اشتباہ ہو، عربی میں ہی اس کے دیگر تلفظ کے اعتبار سے یہ نام رکھنا مناسب نہیں ہوگا، اور اگر یہی تلفظ  (قِسْمَة) اختیار کیا جائے تو بھی ہمارے عرف اور اردو زبان میں "قسمت" بمعنٰی "نصیب" استعمال ہوتاہے، جو عربی میں بھی اس کا ایک معنٰی ہے، اس لیے یہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے۔ اس کے بجائے ایسا نام رکھا جائے جس کا معنٰی بھی اچھا ہو، اور اس میں کسی غلط یا مشتبہ معنٰی کا احتمال نہ ہو، سب سے بہتر یہ ہے کہ کسی نبی علیہ السلام یا رسول اللہ ﷺ کے کسی قریبی صحابی رضی اللہ عنہ کے نام پر نام رکھ لیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200223
تاریخ26-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں