بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کے پیسوں سے پانی کا پلانٹ لگانا

سوال

کیا ہم زکاۃ سے (R.o) پلانٹ لگا سکتے ہیں، اس میں غریبوں کو صاف پانی مفت ملے گا، اس میں ہر ماہ کا خرچ تقریبًا پچاس ہزار کا ہے، اس میں بجلی کا بل اور عملے کی تنخواہ وغیرہ شامل ہے؟

جواب

واضح رہے کہ زکاۃ کی ادائیگی کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ زکاۃ کی رقم کسی فقیر مستحق کو مالک بنا کر اس کے ہاتھ میں وہ رقم دی جائے، لہذا کسی ایسے مصرف میں زکاۃ کی رقم لگانا جس سے فائدہ تو غریب مستحق اٹھا رہے ہوں، مگر وہ رقم ان کی ملکیت میں نہیں دی جارہی ہو، اس طرح صرف کرنے سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی، گو یہ بہت ہی ثواب کا کام ہے۔

صورتِ مسئولہ میں پانی کا پلانٹ لگانے کے لیے زکاۃ کی رقم استعمال کرنا درست نہیں ہے، بلکہ وہ رقم کسی فقیر مستحق کے ہاتھ میں دینا ضروری ہے اس کے بغیر وہ رقم زکاۃ میں شمار نہیں ہوگی۔

 آپ R.O پلانٹ لگاکر  غریبوں کے لیے صاف پانی کا انتظام کرنا چاہتے ہیں تو یہ بہت ہی نیک جذبہ ہے، اور اس پر بہت اجر کی امید ہے، لہٰذا اگر آپ کی استطاعت ہے تو نفلی صدقات یا عطیات سے یہ کام کروالیجیے یا دیگر اَصحابِ خیر کو متوجہ کردیجیے۔

"فتاوی عالمگیری" میں ہے:

" لايجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد، وكل ما لا تمليك فيه، ولايجوز أن يكفن بها ميت، ولايقضى بها دين الميت، كذا في التبيين".

(1/ 188،  کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ط: رشیدیه)

  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200218
تاریخ25-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں