بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی اللہ کی دوڑ کا واقعہ

سوال

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے اک  ساتھ دوڑ لگائی تھی  جس میں صحابہ بھی موجود تھے،  یہ واقعہ کتاب میں موجود ہے؟

جواب

مذکورہ واقعہ حدیث کی  کتابوں میں موجود ہے،  لیکن اس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ہونے کا ذکر نہیں ہے،  واقعے کی تفصیل یہ ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک جگہ پر  دوڑ لگائی  تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آگے بڑھ  گئی تھیں،  پھر بعد کے کسی زمانے میں جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بدن بھی بھاری ہوگیا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور مزاحًا فرمایا کہ یہ اس دوڑ  کے بدلے میں ہے ، سنن ابی داؤد میں بھی یہ روایت ہے اور دیگر کتب میں بھی ہے  ،یہاں سنن ابی  داؤد کے حوالے سے نقل کی جاتی ہے ، ملاحظہ فرمائیں :

" حدثنا أبو صالح الأنطاكى محبوب بن موسى أخبرنا أبو إسحاق - يعنى الفزارى - عن هشام بن عروة عن أبيه وعن أبى سلمة عن عائشة رضى الله عنها أنها كانت مع النبى -صلى الله عليه وسلم فى سفر، قالت: فسابقته فسبقته على رجلي، فلما حملت اللحم سابقته فسبقني فقال: هذه بتلك السبقة."

(سنن ابی داود ، باب فی السبق علی الرجل :۲/۳۳۴،ط:دارالکتاب العربی )

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200206
تاریخ25-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں