بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایرانی پیٹرول کا کاروبار کرنا

سوال

ایرانی پیٹرول کا کاروبار کرنا کیسا ہے؟

جواب

ایرانی پیٹرول چوں کہ غیر قانونی ذریعہ سے درآمد کیا جاتا ہے، جو کہ قانوناً جرم ہے اور پکڑے جانے کی صورت میں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ سزا ملنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے، اور حکومتِ وقت کی جانب سے انتظامی معاملات کے پیشِ نظر جو قوانین بنائے جاتے ہیں ان کی پاس داری ہر شہری پر لازم ہوتی ہے، لہذا غیر قانونی کاروبار سے اجتناب کریں، تاہم اگر کوئی ایسا پیٹرول فروخت کرتا ہے تو اس کی آمدنی حرام نہیں ہوتی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200144
تاریخ24-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں