بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بیوہ اپنے مرحوم شوہر کو غسل دے سکتی ہے؟

سوال

اگر حامد کا انتقال ہوجائے، تو  کیا اس کی بیوی اسے غسل دے سکتی ہے؟

جواب

شوہر کی وفات کی صورت میں اگر اسے کوئی غسل دینے والا  مرد  نہ ہو تو اس کی بیوہ اسے غسل دے سکتی  ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَيُغَسِّلُ الرِّجَالَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ النِّسَاءَ، وَ لَايُغَسِّلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَإِنْ كَانَ الْمَيِّتُ صَغِيرًا لَايُشْتَهَى جَازَ أَنْ يُغَسِّلَهُ النِّسَاءُ، وَ كَذَا إذَا كَانَتْ صَغِيرَةً لَاتُشْتَهَى جَازَ لِلرِّجَالِ غُسْلُهَا، وَ الْمَجْبُوبُ وَالْخَصِيُّ فِي ذَلِكَ كَالْفَحْلِ، وَ يَجُوزُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تُغَسِّلَ زَوْجَهَا إذَا لَمْ يَحْدُثْ بَعْدَ مَوْتِهِ مَا يُوجِبُ الْبَيْنُونَةَ مِنْ تَقْبِيلِ ابْنِ زَوْجِهَا أَوْ أَبِيهِ، وَإِنْ حَدَثَ ذَلِكَ بَعْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَجُزْ لَهَا غُسْلُهُ، وَ أَمَّا هُوَ فَلَايُغَسِّلُهَا عِنْدَنَا، كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ."

(كتاب الجنائز، الْفَصْلُ الثَّانِي فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ، ١ / ١٦٠، ط: دار الفكر)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200116
تاریخ24-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں