بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس شخص کو دعوت نہ پہنچی ہو اس کے ایمان لانے کا کیا حکم ہے؟

سوال

اگر کوئی انسان کسی دور  دراز  جنگل  میں پیدا ہوا، اس تک دین نہیں پہنچا تو اس سے مرنے کے  بعد  کیا سوال ہو گا؟  اگر ہو گا تو کیوں ہو گا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں ایسے شخص پر تخلیقِ  عالم اور تغیرات ِ  احوال پر غور و فکر کرکے  اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے اور توحید پر ایمان لانا لازم ہوگا، اور  اسی کے بارے میں سوال بھی ہوگا، فروعات کے بارے میں اس وقت تک سوال نہ ہوگا جب تک کہ اس تک کوئی داعی دعوت لے کر نہ پہنچے، پس اگر ایسے شخص نے غیر اللہ کی پرستش میں اپنی زندگی گزاری ہو تو وہ مشرک قرار پائے گا۔

نیز مسلمانوں کے ملک میں رہتے ہوئے  مسلمان کے حق میں فروعات کے بارے میں ناواقفیت  عذر نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200110
تاریخ23-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں