بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ساڑھے باون تولہ چاندی پر آج کل کے حساب سے زکوۃ

سوال

باون تولہ چاندی پر آج کل  کی ما لیت کے اعتبار سے کتنی زکوٰۃ واجب ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی کی ملکیت میں صرف چاندی ہے تو زکات کا نصاب پورا ہونے کے لیے اس کا وزن ساڑھے باون تولہ ہونا ضروری ہے، اور اگر چاندی کے ساتھ سونا یا نقدی یا مالِ تجارت یا یہ سب اموال تھوڑے تھوڑے موجود ہیں تو ان اموال کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہونا ضروری ہے۔ اگر  صرف چاندی ساڑھے باون تولہ سے کم ہو، یا مذکورہ اموال کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہو تو زکات واجب نہیں ہوگی۔

لہذا اگر سائل کا سوال باون تولہ چاندی کے بارے میں ہی ہے تو اس پر زکات واجب نہیں ہوگی۔ اور اگر سوال نصاب زکات (ساڑھے باون تولہ چاندی) کے بارے میں ہے، لیکن غلطی سے یا لاعلمی میں باون لکھ دیا ہے تو اصولی جواب اوپر دیا جاچکاہے۔

باقی چاندی کی قیمت گھٹتی اور بڑھتی رہتی ہے، ان دنوں چاندی فی تولہ تقریباً 1154(ایک ہزار ،ایک سو، چوّن)روپے ہے، اس لحاظ سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت 60585(ساٹھ ہزار،پانچ سو، پچاسی)روپے بنتی ہے۔اور سال مکمل ہونے پر اس کا ڈھائی فیصد بطور زکوۃ دینا ضروری ہے، جو تقریباً 1515(ایک ہزار ،پانچ سو،پندرہ )روپے بنتا ہے،نیز حتمی قیمت جس دن(قربانی یازکاۃ کے لیے) حساب کیاجارہاہواس دن مارکیٹ سے معلوم کرلینی چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200097
تاریخ23-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں