بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیمہ میں جمع کردہ اصل رقم کا حکم

سوال

اگر کوئی شخص بیمہ کی زائد رقم یعنی سود کا پیسہ بلا نیتِ ثواب فقراء میں تقسیم کردے، تو کیا مابقیہ رقم بیمہ ہولڈر کے لیے استعمال کرنا درست ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اصل رقم جو قسط وار بیمہ کمپنی میں جمع کروائی تھی اسے استعمال کرنا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200075
تاریخ23-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں