بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پلازما عطیہ کرنا

سوال

پلازمہ عطیہ کرنے کے بارے میں کیا احکامات ہیں؟

جواب

اگر کوئی ماہر طبیب یہ کہہ دے کہ اس مریض کو پلازما عطیہ کرنے سے اس کی جان بچائی جا سکتی ہے یا اس کو شفا مل سکتی ہے اور اس کے علاوہ علاج کی کوئی صورت نہ ہو،  یا علاج تو ہو  لیکن شفا میں تاخیر کا اندیشہ ہو یا کوئی اور مشکل درپیش ہو  تو ایسی صورت میں اپنا پلازما  کسی مریض کو عطیہ کرنے کی گنجائش ہے، تاہم پلازما  دینے کے عوض کسی قسم کی رقم یا دوسرے منافع وصول کرنا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وَلَمْ يُبَحْ الْإِرْضَاعُ بَعْدَ مَوْتِهِ)؛ لِأَنَّهُ جَزْءُ آدَمِيٍّ، وَالِانْتِفَاعُ بِهِ لِغَيْرِ ضَرُورَةٍ حَرَامٌ عَلَى الصَّحِيحِ". (3 / 211، باب الرضاع، ط:سعید) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200046
تاریخ22-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں