بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ خصلت کون سی تھی؟

سوال

آپﷺ کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل کون سا لگتا تھا؟

جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے نا پسندیدہ و مبغوض ترین عمل جھوٹ تھا، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جھوٹ سے زیادہ مبغوض کوئی خصلت نہ تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ سے نفرت کی وجہ سے جھوٹے سے اس وقت تک اعراض فرماتے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے۔

سنن الترمذي میں ہے:

"حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا كَانَ خُلُقٌ أَبْغَضَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْكَذِبِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُحَدِّثُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْكِذْبَةِ فَمَا يَزَالُ فِي نَفْسِهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ مِنْهَا تَوْبَةً." قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ".

( ٢٦- بَابُ مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالكَذِبِ، ۳ /  ٤١٦ ،  رقم: ۱۹۷۳)

فيض القدير للمناوي میں ہے:

"6585 - (كان إذا اطلع على أحد من أهل بيته) أي من عياله وخدمه (كذب كذبة) واحدة بفتح الكاف وكسرها والذال ساكنة فيهما (لم يزل معرضًا عنه) إظهارا لكراهته الكذب وتأديبًا له وزجرًا عن العود لمثلها (حتى يحدث توبة) من تلك الكذبة التي كذبها وفي رواية البزار: ما كان خلق أبغض إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من الكذب، و لقد كان الرجل يكذب عنده الكذبة فما يزال في نفسه حتى يعلم أنه أحدث منها توبة".

( باب كان وهي الشمائل الشريفة، ٥ / ١٠٦، رقم: ٦٥٨٥ )

الزواجر عن اقتراف الكبائر للهيتميمی میں ہے:

"وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: «مَا كَانَ مِنْ خُلُقٍ أَبْغَضَ إلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ الْكَذِبِ مَا اطَّلَعَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ فَيَخْرُجُ مِنْ قَلْبِهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ تَوْبَةً» . وَابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ عَنْهَا قَالَتْ: «مَا كَانَ مِنْ خُلُقٍ أَبْغَضَ إلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ الْكَذِبِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَكْذِبُ عَنْهُ الْكَذْبَةَ فَمَا يَزَالُ فِي نَفْسِهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ فِيهَا تَوْبَةً». وَالْحَاكِمُ وَصَحَّحَهُ عَنْهَا قَالَتْ: «مَا كَانَ شَيْءٌ أَبْغَضَ إلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ الْكَذِبِ وَمَا جَرَّبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحَدٍ وَإِنْ قَلَّ فَيَخْرُجُ لَهُ مِنْ نَفْسِهِ حَتَّى يُجَدِّدَ لَهُ تَوْبَةً»."

( كتاب الشهادات، الْكَبِيرَةُ الْأَرْبَعُونَ بَعْدَ الْأَرْبَعِمِائَةِ: الْكَذِبُ الَّذِي فِيهِ حَدٌّ أَوْ ضَرَرٌ ،۲ / ۳۲٤)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111200039
تاریخ22-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں