بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایسے مال (mall) میں کام کرنا جہاں شراب یا خنزیر بکتا ہو

سوال

یورپ میں کام کرنے والے مسلمان ایسے مال (mall) میں کام کر سکتے ہیں جس میں شراب اور خنزیر فروحت ہوتا ہو؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ایسے مال (mall) میں کام کرتے ہوئے اگر شراب یا خنزیر یا اس جیسی حرام چیز و فروخت کرنے میں کسی بھی طرح حصہ نہیں لیا جائے تو وہاں کام کرنا جائز ہوگا اور اگر حرام اور ناجائز چیزوں کو فروخت کرنے میں حصہ لیا جاتا ہو تو جس قدر اس میں حصہ لیا ہے، اس کے بقدر معاوضہ وصول کرنا ناجائز ہوگا اور اس طرح حصہ لینا گناہ کا سبب ہوگا؛ لہذا ایسی جگہوں پر کام کرنے سے اجتناب بہتر ہے۔ اگر بوجہ مجبوری عارضی طور پر کام کرنا ہو تو مالک سے پہلے ہی طے کرلیا جائے  کہ شراب اور خنزیر وغیرہ ناجائز اشیاء سرو نہیں کریں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144110201802
تاریخ21-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں