بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازی کے سامنے چہرہ کر کے بیٹھنا

سوال

اگر ایک شخص جماعت میں نمازمکمل کرنے کے بعد اپنا چہرہ پچھلی صف میں بیٹھے نماز  پڑھتے شخص کی طرف منہ کرکے بیٹھ جائے تو کیا بندہ جس نے منہ پچھلی صف کی طرف کیا گناہ گار ہوگا یا اسے کسی بھی رخ سے بیٹھے رہنے کی اجازت ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ نمازی کے  چہرہ کے سامنے  چہرہ رخ ہو کر بیٹھنا مکروہ ہے اور نمازی کی طرف چہرہ کرنے والا گناہ گار ہوگا، اور اگر کوئی شخص پہلے سے ہی بیٹھا ہوا ہے تو اس کے چہرے کی طرف نماز شروع کرنا بھی مکروہ ہے اور اس صورت میں نماز شروع کرنے والا گناہ گار ہوگا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں نماز سے فارغ ہوجانے والے شخص کو چاہیے کہ اپنے پیچھے والی صف میں نماز پڑھنے والوں کی طرف پیٹھ کر کے ہی بیٹھا رہے، ان کی طرف چہرہ کر کے بیٹھنا اس کے لیے مکروہ ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں وہ گناہ گار ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

’’(و) لایکرہ صلاۃ إلی ظھر قاعد.

قید بالظھر احترازًا عن الوجه؛ فإنھا تکرہ کما مر.‘‘ (1/ 651، ط:سعید)

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201752
تاریخ20-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں