مارک اَپ لون کا حکم
سوال
اسلام میں مارک اَپ لون لینا حلال ہے؟
جواب
اسلام ہر ایسے قرضہ کو حرام قرار دیتا ہے جس میں قرض کے طور پر دی گئی رقم پر اضافی مشروط رقم وصول کی جائے اور مارک اَپ لون میں بھی چوں کہ اضافی مشروط رقم وصول کی جاتی ہے؛ اس لیے اس قسم کے لون کے لین دین کی شرعاً اجازت نہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
وَفِي الْأَشْبَاهِ: " كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ ؛ فَكُرِهَ لِلْمُرْتَهِنِ سُكْنَى الْمَرْهُونَةِ بِإِذْنِ الرَّاهِنِ.
وفي الرد:
(قَوْلُهُ: كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ) أَيْ إذَا كَانَ مَشْرُوطًا، كَمَا عُلِمَ مِمَّا نَقَلَهُ عَنْ الْبَحْرِ.(166/5 )
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

