کلمہ طیبہ میں ’’الرسول‘‘ کے لام کا اعراب/ وضو میں پہلے سے گیلے پاؤں کو ملنے کا حکم
سوال
1- کلمہ طیبہ میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ میں "ل" پر پیش پڑھی جائے یا زبر؟
2- گیلے پاؤں ہوں تو وضو دوبارہ کرتے ہوئے صرف پانی بہانا کافی ہے یا باقاعدہ مسلنا لازم ہے؟
جواب
1- کلمہ طیبہ میں ’’محمدٌ رَّسولُ اللہ‘‘ میں ’’رسول‘‘ کے لام پر پیش (ضمہ) پڑھا جائے گا۔
2- وضو کرتے ہوئے پاؤں چاہے گیلے ہوں یا خشک ہوں ان کو دھوتے وقت ہاتھ سے ملنا لازم نہیں ہے، البتہ سنت یہ ہے کہ پاؤں سمیت ہر عضو پر پانی ڈالنے وقت اس کو ہاتھ سے ملا جائے؛ تاکہ کوئی جگہ خشک نہ رہے، اور جسم پر کوئی چیز لگی ہو تو وہ ہٹ جائے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 123):
"ومن السنن: الدلك.
(قوله: الدلك) أي بإمرار اليد ونحوها على الأعضاء المغسولة حلية: وعده في الفتح من المندوبات، ولم يتابعه عليه في البحر والنهر، نعم تابعه المصنف فيما سيأتي".
فقط و الله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

