بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کلمہ طیبہ میں ’’الرسول‘‘ کے لام کا اعراب/ وضو میں پہلے سے گیلے پاؤں کو ملنے کا حکم

سوال

1- کلمہ طیبہ میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ میں "ل" پر پیش پڑھی جائے یا زبر؟

2- گیلے پاؤں ہوں تو وضو دوبارہ کرتے ہوئے صرف پانی بہانا کافی ہے یا باقاعدہ مسلنا لازم ہے؟

جواب

1- کلمہ طیبہ میں  ’’محمدٌ رَّسولُ اللہ‘‘ میں ’’رسول‘‘ کے لام پر پیش (ضمہ) پڑھا جائے گا۔

2- وضو کرتے ہوئے پاؤں چاہے گیلے ہوں یا خشک ہوں ان  کو دھوتے وقت ہاتھ سے ملنا لازم نہیں ہے، البتہ سنت یہ ہے کہ پاؤں سمیت ہر عضو پر پانی ڈالنے وقت اس کو ہاتھ سے  ملا جائے؛ تاکہ کوئی جگہ خشک نہ رہے، اور جسم پر کوئی چیز لگی ہو تو وہ ہٹ جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 123):

"ومن السنن: الدلك.

(قوله: الدلك) أي بإمرار اليد ونحوها على الأعضاء المغسولة حلية: وعده في الفتح من المندوبات، ولم يتابعه عليه في البحر والنهر، نعم تابعه المصنف فيما سيأتي".

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201683
تاریخ19-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں