بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو غلطی سے ماں کہہ کر پکارنے کا حکم

سوال

غلطی سے بیوی کو ماں کہہ کر پکارنا حالاں کہ اس کا ارادہ نہ ہو؟

جواب

بیوی کو ماں کہہ کر پکارنا اچھا نہیں ہے، البتہ بیوی کو ماں کہہ کر پکارنے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 470):

(وإلا) ينو شيئًا، أو حذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر، يعني الكرامة. ويكره قوله: أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه.

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201678
تاریخ19-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں